Ghazwa-e-hind-ghazwatul-hind.png

غزوئہ ہند نبی ﷺ کی پیش گوئیوں میں ان غزواتِ موعودہ کی ذیل میں آتا ہے جن کی فضیلت کے متعلق نبی کریمﷺ سے متعدد احادیث مروی ہیں۔

احادیث[edit | edit source]

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے

میرے جگری دوست رسول اللہﷺ نے مجھ سے بیان کیا کہ: اس اُمت میں سندھ وہند کی طرف لشکر وں کی روانگی ہوگی۔ اگر مجھے ایسی کسی مہم میںشرکت کا موقع ملا اور میں (اس میں شریک ہوکر) شہید ہوگیا توٹھیک، اگر (غازی بن کر) واپس لوٹ آیا تو میں ایک آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے آزاد کردیا ہوگا۔

(امام سیوطی الخصائص الکبریٰ ، امام بیہقی ؒ دلائل النبوۃ ، امام بیہقی ؒ' السنن الکبریٰ ، امام نسائی ؒ السنن المجتبٰی ، مسند امام احمد بن حنبلؒ) حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

میری اُمت میں دو گروہ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ کر دیا ہے ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔

(مسند امام احمد بن حنبلؒ ، امام نسائی ؒ السنن المجتبٰی) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے ہندوستان کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا

ضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا، اللہ ان مجاہدین کو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ (مجاہدین) ان (ہندوؤں) کے بادشاہوں(حاکموں) کوبیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور اللہ (اس جہادِ عظیم کی برکت سے) ان(مجاہدین) کی مغفرت فرما دے گا۔ پھرجب وہ مسلمان واپس پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم کو شام میں پائیں گے۔

(نعیم بن حمادؒ کتاب الفتن ، مسند اسحق بن راہویہؒ) حضرت کعب ؓ کی ایک حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ

بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سرزمین ہندکو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پرقبضہ کرلیں گے، پھر وہ بادشاہ ان خزانوں کوبیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں(حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کرے گا۔ اس کے مجاہدین، بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کرلیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔

(نعیم بن حمادؒ کتاب الفتن) حضرت صفوان بن عمرو ؒسے حدیث مروی ہے کہ

میری اُمت کے کچھ لوگ ہندوستان سے جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ انکو فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ وہ ہندوستان کے بادشاہوں(حاکموں) کوبیڑیوں میں جکڑے ہوئے پائیں گے، اللہ ان مجاہدین کی مغفرت فرمائے گا جب وہ شام کی طرف پلٹیں گے تو عیسیٰ ابن مریم ؑکو وہاںموجود پائیں گے۔

(نعیم بن حمادؒ کتاب الفتن)
Ghazwa hind fatwa.jpg

تشریح[edit | edit source]

اکثر علامہ کا ماننا ہے کہ اس پیشن گوئی میں غزوہ محمد بن قاسم سے لے کر محمود غزنویؒ، محمد غوریؒ، احمد شاہ ابدالیؒ اور  قضیہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کی مجوزہ جنگ بھی شامل ہیں۔

ابن کثیر ، ایک شامی مورخ نے ان احادیث کے تحت 1024 میں سومناتھ مندر پر غزنوی کے حملے کو اپنی کتاب "البداية والنهاية" میں شامل کیا ہے۔

ایک صوفی اسکالر اور شاعر شاہ نعمت اللہ ولی نے اپنے قصیدہ "پیش گوئی" کے بعض اشعار میں اس آنے والے واقعے کا حوالہ دیا ہے کہ

دنیا کے چاروں کونوں سے مسلمان جنگجو ہند کے خلاف اتحاد کرنے کے لئے ہاتھ ملائیں گے اور ہند گنگا ندی تک فتح کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خوبصورت لڑکیاں اور دلکش عورتیں  مجاہدین کی جنگ کے غنیمتوں میں شامل ہوگی۔

دوسرے علما کا خیال ہے کہ فتح ہند ابھی تک پوری طرح سے نہیں ہو سکی ہے ، لیکن یہ اس وقت ہوگا جب عیسٰی ابن مریم اور امام مہدی علیہم السلام جنت سے اتر کر دجال سے لڑنے کے لئے روایات کے مطابق نازل ہونگے۔

بعض کا کہنا ہے کہ عہد ِنبوت سے لے کر تاقیامت برصغیر (ہندوستان) میں پیش آنے والی مسلمانوں اور کافروں کی تمام لڑائیوں کو 'غزوئہ ہند' قرار دے دینا درست ہے۔

Community content is available under CC-BY-SA unless otherwise noted.